(۳۲۹۳۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ أَبَا عُبَیْدَۃَ عَلَی الشَّامِ وَعَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ ، فَقَالَ : خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ : بُعِثَ عَلَیْکُمْ أَمِینُ ہَذِہِ الأُمَّۃِ ، قَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ ، سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : خَالِد سَیْفٌ مِنْ سُیُوفِ اللہِ وَنِعْمَ فَتَی الْعَشِیرَۃِ۔ (احمد ۹۰)
(٣٢٩٣٠) حضرت عبد الملک بن عمیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو عبیدہ (رض) کو شام والوں پر امیر بنا کر بھیجا اور حضرت خالد بن ولید (رض) کو معزول کردیا۔ اس پر حضرت خالد بن ولید (رض) نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں پر اس امت کے امین شخص کو امیر بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت ابو عبیدہ (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں۔ اور قبیلہ کے سب سے اچھے جوان ہیں۔