(۳۲۹۳۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قلْت لِفَاطِمَۃَ ابْنَۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رَأَیْتُک حِینَ أَکْبَبْت عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ فَبَکَیْتِ، ثُمَّ أَکْبَبْتِ عَلَیْہِ ثَانِیَۃً فَضَحِکْتِ ، قَالَتْ : أَکْبَبْتُ عَلَیْہِ فَأَخْبَرَنِی إِنَّہُ مَیِّتٌ فَبَکَیْتُ ، ثُمَّ أَکْبَبْتُ عَلَیْہِ الثَّانِیَۃَ فَأَخْبَرَنِی أَنِّی أَوَّلُ أَہْلِہِ لُحُوقًا بِہِ ، وَأَنِّی سَیِّدَۃُ نِسَائِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ إلاَّ مَرْیَمَ ابْنَۃَ عِمْرَانَ ، فَضَحِکْتُ۔
(بخاری ۳۶۲۳۔ مسلم ۹۹)
(٣٢٩٣٦) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ (رض) سے پوچھا : میں نے تجھے دیکھا تھا جب تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھکیں ان کے مرض وفات میں پھر رونے لگیں۔ پھر تم دوبارہ ان پر جھکیں پس دوسری مرتبہ تم ہنس پڑیں ؟ ! آپ (رض) نے فرمایا : میں جب پہلے جھکی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بتلایا کہ وہ فوت ہونے والے ہیں۔ تو میں رو پڑی۔ پھر میں دوبارہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھکی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بتلایا کہ میں اپنے گھر والوں میں سب سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملوں گی۔ اور بیشک میں جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں۔ سوائے مریم بن عمران کے۔ تو اس بات پر میں ہنس پڑی۔