(۳۲۹۵۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتہ یَقُولُ: أَتَی جِبْرِیلُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ہَذِہِ خَدِیجَۃُ قَدْ أَتَتْک ، مَعَہَا إنَائٌ فِیہِ إدَامٌ ، أَوْ طَعَامٌ، أَوْ شَرَابٌ ، فَإِذَا ہِیَ أَتَتْک فَاقْرَأْ عَلَیْہَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّہَا وَبَشِّرْہَا بِبَیْتٍ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِیہِ ، وَلاَ نَصَبَ۔ (بخاری ۳۸۲۰۔ مسلم ۱۸۸۷)
(٣٢٩٥٣) حضرت ابو زرعہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آ کر عرض کیا۔ یہ خدیجہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں ہیں، اس حال میں کہ ان کے ساتھ ایک برتن ہے جس میں سالن یا کھانا یا پانی ہے۔ پس جب یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آجائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام کہہ دیں۔ اور ان کو جنت میں موتیوں سے بنے ہوئے گھر کی بشارت بھی سنا دیں۔ جس میں نہ تو شورو غل ہوگا اور نہ تھکاوٹ۔