(۳۲۹۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ الأَعْمَشُ : أُرَاہُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَدِمَتْ عَلَی عُمَرَ حُلَلٌ ، فَجَعَلَ یُقَسِّمُہَا بَیْنَ النَّاسِ فَمَرَّتْ بِہِ حُلَّۃٌ نَجْرَانِیَّۃٌ جَیِّدَۃٌ ، فَوَضَعَہَا تَحْتَ فَخِذِہِ حَتَّی مَرَّ عَلَی اسْمِی ، فَقُلْتُ : اکْسُنِیہَا ، فَقَالَ : أَکْسُوہَا وَاللہِ رَجُلاً خَیْرًا مِنْک وَأَبُوہُ خَیْرٌ مِنْ أَبِیک ، فَدَعَا عَبْدَ اللہِ بن حنظلۃ بْنَ الرَّاہِبِ ، فَکَسَاہُ إیَّاہَا۔
(٣٢٩٩٠) حضرت اعمش (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : حضرت عمر (رض) کے پاس چند جوڑے آئے۔ تو وہ ان جوڑوں کو لوگوں کے درمیان تقسیم فرما رہے تھے۔ اتنے میں ایک نجرانی جوڑا آیا جو قیمتی تھا وہ آپ (رض) نے اپنی ران کے نیچے رکھ لیا : یہاں تک کہ میرا نام آگیا۔ میں نے کہا : مجھے یہ جوڑا پہنا دیں آپ (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ جوڑا میں ایسے آدمی کو پہناؤں گا جو تجھ سے بہتر ہے اور اس کا باپ تیرے باپ سے بہتر ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن حنظلہ بن راھب (رض) کو بلایا۔ اور یہ جوڑا اس کو پہنا دیا۔