(۳۳۰۱) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمُہَاجِرُ أَبُو الْحَسَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ وَہْبٍ یُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَسِیرٍ فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ یُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَبْرِدْ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُؤَذِّنَ ، فَقَالَ : أَبْرِدْ ، حَتَّی رَأَیْنَا فَیْئَ التُّلُولِ ، ثُمَّ أَذَّنَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ۔
(بخاری ۵۳۵۔ مسلم ۴۳۱)
(٣٣٠١) حضرت ابو ذر غفاری سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے، حضرت بلال نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو ۔ کچھ دیر بعد پھر انھوں نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا ذرا ٹھنڈا ہونے دو ۔ یہاں تک کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا۔ پھر انھوں نے اذان دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک ہے، جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو۔