(۳۳۰۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، قَالَ : أَذَّنَ أَبُو مَحْذُورَۃَ بِصَلاَۃِ الظُّہْرِ بِمَکَّۃَ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَصَوْتُک یَا أَبَا مَحْذُورَۃَ الَّذِی سَمِعْتُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ذَخَرْتُہُ لَکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لأَسْمِعَکَہُ ، فَقَالَ عُمَرُ : یَا أَبَا مَحْذُورَۃَ ، إنَّک بِأَرْضٍ شَدِیدَۃِ الْحَرِّ ، فَأَبْرِدْ بِالصَّلاَۃِ ، ثُمَّ أَبْرَدَ بِہَا۔
(٣٣٠٣) حضرت عبدالرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت ابو محذورہ نے مکہ میں ظہر کی اذان دی تو حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اے ابو محذورہ ! کیا میں نے ابھی تمہاری آواز سنی ہے۔ انھوں نے کہا جی ہاں، اے امیر المؤمنین ! میں نے اپنی آواز اس لیے بلند کی تاکہ آپ سن لیں۔ حضرت عمرنے فرمایا کہ اے ابو محذورہ ! تم ایک ایسی سرزمین میں ہو جہاں شدید گرمی پڑتی ہے، اس لیے ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرلیا کرو۔ اس کے بعد سے حضرت ابو محذورہ ظہر کو ٹھنڈا کیا کرتے تھے۔