(۳۳۱۱۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ رَبِیعِ بْنِ عُمَیْلَۃَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : اخْتَلَفَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ وَرَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ فَتَفَاخَرَا ، فَقَالَ الْکُوفِیُّ : نَحْنُ أَصْحَابُ یَوْمِ الْقَادِسِیَّۃِ، وَیَوْمِ کَذَا وَیَوْمِ کَذَا وَیَوْمِ کَذَا ، وَقَالَ الشَّامِیُّ : نَحْنُ أَصْحَابُ الْیَرْمُوکِ وَیَوْمِ کَذَا وَیَوْمِ کَذَا ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : کِلاَہُمَا لَمْ یَشْہَدْہُ اللَّہُ ، ہُلْکَ عَادٌ وَثَمُودُ لَمْ یُؤَامِرْہُ اللَّہُ فِیہِمَا لَمَّا أَہْلَکَہُمَا ، وَمَا مِنْ قَرْیَۃٍ أَحْرَی أَنْ تدفع عنہا عَظِیمَۃً ، یَعْنِی الْکُوفَۃَ۔
(٣٣١١١) حضرت ربیع بن عمیلہ (رض) فرماتے ہیں کہ کوفہ کے ایک آدمی اور شام کے ایک آدمی کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ یہ دونوں آپس میں فخر کرنے لگے۔ کوفی نے کہا : ہم تو جنگ قادسیہ کے دن والے لوگ ہیں۔ اور شامی کہنے لگا : ہم تو جنگ یرموک والے ہیں اور فلاں فلاں دن والے لوگ ہیں۔ اس پر حضرت حذیفہ (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ نے عاد اور ثمود کی ہلاکت میں ان دونوں کو گواہ نہیں بنایا تھا اور نہ ہی ان دونوں سے اس بارے میں مشورہ کیا تھا اور کوئی بستی بھی اس لائق نہیں کہ اس شہر جتنی اس کی فضیلت بیان کی جائے، یعنی کوفہ جتنی۔