(۳۳۱۲۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : مَدَّ الفُرات عَلَی عَہْدِ عَبْدِ اللہِ فَکَرِہَ النَّاسُ ذَلِکَ ، فقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، لاَ تَکْرَہُوا مَدَّہُ فَإِنَّہُ یُوشِکُ أَنْ یُلْمَسَ فِیہِ طَسْتٌ مِنْ مَائٍ فَلاَ یُوجَدُ ، وَذَاکَ حِینَ یَرْجِعُ کُلُّ مَائٍ إلَی عُنْصُرِہِ ، فَیَکُونُ الْمَائُ وَبَقِیَّۃُ الْمُؤْمِنِینَ یَوْمَئِذٍ بِالشَّامِ۔
(٣٣١٢٩) حضرت مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن عبد الرحمن (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے زمانہ میں فرات دریا بہت زیادہ بھر گیا ، تو لوگوں نے اسے برا سمجھا۔ اس پر آپ (رض) نے فرمایا : اے لوگو ! اس کے بڑھنے کو بُرا مت سمجھو۔ بیشک وہ وقت قریب ہے کہ اس میں پانی کی سلفچی تلاش کی جائے گی تو وہ بھی نہیں ملے گی۔ اور یہ اس وقت ہوگا جب سارا پانی اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے گا۔ اور اس دن پانی اور بقیہ مومنین صرف شام میں ہوں گے۔