(۳۳۱۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ، عَنْ شَبِیبِ بْنِ غَرْقَدَۃَ، عَنِ الْمُسْتَظِلِّ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ : قدْ عَلِمْت وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ مَتَی تَہْلِکُ الْعَرَبُ ، فَقَامَ إلَیْہِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فَقَالَ : مَتَی یَہْلِکُونَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَ: حِینَ یَسُوسُ أَمَرَہُمْ مَنْ لَمْ یُعَالِجْ الْجَاہِلِیَّۃِ وَلَمْ یَصْحَبِ الرَّسُولَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(٣٣١٣٩) حضرت مستظل بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ہم سے خطاب فرما رہے تھے آپ (رض) نے فرمایا : ربِ کعبہ کی قسم ! تحقیق مجھے معلوم ہے کہ اہل عرب کب ہلاک ہوں گے ؟ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا : اے امیر المؤمنین : یہ لوگ کب ہلاک ہوں گے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جب اس کا معاملہ وہ شخص سنبھالے گا جس نے نہ جاہلیت میں کبھی کوئی تدبیر وغیرہ کی اور نہ ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختیار کی ہو۔