(۳۳۱۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : جَائَ عَلِیٌّ بِسَیْفِہِ ، فَقَالَ : خُذِیہِ حَمِیدًا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنْ کُنْتَ أَحْسَنْت الْقِتَالَ الْیَوْمَ فَقَدْ أَحْسَنَہُ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ وَعَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَالْحَارِثُ بْنُ صِمَّۃَ ، وَأَبُو دُجَانَۃَ ، وعن عکرمۃ قَالَ قال رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یوم أحد : مَنْ یَأْخُذُ ہَذَا السَّیْفَ بِحَقِّہِ ، فَقَالَ أَبُو دُجَانَۃَ أَنَا وَأَخَذَ السَّیْفَ فَضَرَبَ بِہِ حَتَّی جَائَ بِہِ قَدْ حَنَاہُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَعْطَیْتُہُ حَقَّہُ ، قَالَ نَعَمْ۔ (طبرانی ۶۵۰۷۔ حاکم ۲۴)
(٣٣١٧٨) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) اپنی تلوار لائے اور حضرت فاطمہ (رض) سے فرمایا : اس تعریف شدہ کو پکڑو۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج کے دن تم نے شاندار قتال نہیں کیا تحقیق شاندار لڑائی تو سھل بن حنیف، عاصم بن ثابت، حارث بن الصمبہ اور ابو دجانہ (رض) نے لڑی۔
اور حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ احد کے دن ارشاد فرمایا : کون شخص اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ پکڑے گا ؟ حضرت ابو دجانہ (رض) نے عرض کیا : میں پکڑوں گا۔ اور تلوار پکڑی پھر اس کے ساتھ لڑے یہاں تک کہ تلوار کو واپس لائے اس حال میں کہ وہ ٹیڑھی ہوچکی تھی۔ اور فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! کیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں !۔