(۳۳۱۸۵) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّیِّ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الأَزْدِیِّ ، عَنْ أَبِی الْکَنُودِ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ : (وَلاَ تَطْرُدَ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْہَہُ) قَالَ : جَائَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِیمِیُّ وَعُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِیّ فَوَجَدُوا النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا مَعَ بِلاَلٍ وَعَمَّارٍ وَصُہَیْبٍ وَخَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ فِی نَاسٍ مِنَ الضُّعَفَائِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَلَمَّا رَأَوْہُمْ حَقَّرُوہُمْ فَأَتَوْہُ فَخَلَوْا بِہِ فَقَالُوا : إنا نُحِبُّ أَنْ تَجْعَلَ لَنَا مِنْک مَجْلِسًا تَعْرِفُ لَنَا بِہِ الْعَرَبُ فَضْلَنَا ، فَإِنَّ وُفُودَ الْعَرَبِ تَأْتِیک فَنَسْتَحِی أَنْ تَرَانَا مَعَ ہَذِہِ الأَعْبُد ، فَإِذَا نَحْنُ جِئْنَاک فَأَقِمْہُمْ عَنَّا ، وَإِذَا نَحْنُ فَرَغْنَا فَاقْعُدْ مَعَہُمْ إِنْ شِئْتَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالُوا : فَاکْتُبْ لَنَا کِتَابًا ، فَدَعَا بِالصَّحِیفَۃِ لِتُکْتَبَ وَدَعَا عَلِیًّا لِیَکْتُبَ ، فَلَمَّا أَرَادَ ذَلِکَ وَنَحْنُ قُعُودٌ فِی نَاحِیَۃٍ إذْ نَزَلَ عَلَیْہِ جِبْرِیلُ ، فَقَالَ : {وَلاَ تَطْرُدَ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْہَہُ} إلَی قَوْلِہِ {فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِینَ}۔ (ابن ماجہ ۴۱۲۷۔ طبرانی ۳۶۹۳)
(٣٣١٨٥) حضرت ابو الکنود (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت خباب بن الارت (رض) نے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں فرمایا : آیت { وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْہَہُ } کہ اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری آئے اور ان لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت بلال (رض) ، حضرت عمار (رض) ، حضرت صہیب (رض) اور حضرت خباب بن الأرت (رض) جو مسلمانوں میں سب سے کمزور لوگ تھے ان کے پاس بیٹھا ہوا پایا۔ ان لوگوں نے ہمیں حقیر نظروں سے دیکھا۔ پھر یہ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خلوت میں لے گئے اور کہنے لگے : کہ ہم یہ بات پسند کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے لیے ایک الگ مجلس مقرر کریں تاکہ اہل عرب اس وجہ سے ہماری فضیلت کو جان لیں ۔ بیشک اہل عرب کے وفود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے ہیں اور ہم شرم کھاتے ہیں کہ وہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں۔ لہٰذا جب ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو ہمارے پاس سے اٹھا دیا کریں ، اور جب ہم فارغ ہوجائیں تو پھر اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہیں تو ان کے ساتھ بیٹھ جایا کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! ٹھیک ہے یہ لوگ کہنے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ایک تحریر لکھ دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دستہ منگوایا تاکہ یہ بات لکھ دی جائے۔ اور حضرت علی (رض) کو بلایا تاکہ وہ یہ لکھیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ لکھنے کا ارادہ کیا تو ہم لوگ ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیات لے کر نازل ہوئے : { وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْہَہُ } سے لے کر { فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِینَ } تک۔