(۳۳۲۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی مَرْزوق ، عَنْ مَیْمُونٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَیْسِ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَلْمَانَ عَلَی حِمَارٍ فِی سَرِیَّۃٍ ہُوَ أَمِیرُہَا وَخَدَمَتَاہُ تُذَبْذِبَانِ وَالْجُنْدُ یَقُولُونَ : جَائَ الأَمِیرُ جَائَ الأَمِیرُ ، قَالَ : فَقَالَ سَلْمَانُ : إنَّمَا الْخَیْرُ وَالشَّرُّ فِیمَا بَعْدَ الْیَوْمِ ، فَإِنَ اسْتَطَعْت أَنْ تَأْکُلَ مِنَ التُّرَابِ ، وَلاَ تُؤَمَّرَ عَلَی رَجُلَیْنِ فَافْعَلْ ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّہَا لاَ تُحْجَبُ۔
(٣٣٢١٩) ایک آدمی جن کا تعلق قبیلہ عبد القیس سے ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمان (رض) کو گدھے پر دیکھا ایک لشکر میں جس کے وہ امیر تھے ۔ اور ان کی دونوں پنڈلیاں کانپ رہی تھیں اور لشکر والے کہہ رہے تھے۔ امیرآ گئے ! امیر آگئے ! اس پر حضرت سلمان (رض) نے فرمایا : بیشک اس بارے میں برائی اور بھلائی کا فیصلہ تو آج کے دن کے بعد ہوگا۔ اور فرمایا : اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ مٹی کھالو اور دو آدمیوں پر امیر نہ بنو تو ایسا کرلو۔ اور مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ اس کے لیے کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہوتی۔