(۳۳۲۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أُبَیٌّ وَإِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : انْتَہَیْت إلَی أَبِی جَہْلٍ یَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُہُ وَہُوَ صَرِیعٌ وَہُوَ یَذُبُّ النَّاسَ عَنْہُ بِسَیْفِہِ ، فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَخْزَاک یَا عَدُوَّ اللہِ ، فَقَالَ : ہَلْ ہُوَ إِلاَّ رَجُلٌ قَتَلَہُ قَوْمُہُ ، فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُہُ بِسَیْفٍ لِی غَیْرِ طَائِلٍ ، فَأصبت یَدہُ فَنَدَرَ سَیْفُہُ فَأَخَذْتہ فَضَرَبْتہ بِہِ حَتَّی بَرَدَ۔
(٣٣٢٨٠) حضرت ابو عبیدہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : میں غزوہ بدر کے دن ابو جہل ملعون کے پاس پہنچا اس حال میں کہ اس کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ تھا۔ اور وہ خود کو لوگوں سے بچا رہا تھا اپنی تلوار کے ذریعے۔ پس میں نے کہا : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے ذلیل و رسوا کیا اے اللہ کے دشمن۔ وہ کہنے لگا : کوئی آدمی نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی قوم نے اس کو مار ڈالا۔ آپ (رض) فرماتے ہیں : میں نے اپنی چھوٹی سی تلوار کے ذریعہ اس کو ٹٹولنا شروع کیا تو میں نے اس کے ہاتھ کو ہلایا اور اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے اس کی تلوار کو پکڑ لیا۔ اور اس کو مار دیا۔ یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔