(۳۳۳۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی سَرِیَّۃٍ ، أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فَقَالَ : إذَا لَقِیتَ عَدُوَّک مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَادْعُہُمْ إلَی إحْدَی ثَلاَثِ خِصَالٍ ، أَوْ خِلاَلٍ ، فَأَیَّتُہُنَّ مَا أَجَابُوک إلَیْہَا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ: ادْعُہُمْ إلَی الإِسْلاَمِ فَإِنْ أَجَابُوک فَکُفَّ عَنْہُمْ وَاقْبَلْ مِنْہُمْ ، ثُمَّ ادْعُہُمْ إلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ إلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ ، وَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ أَنَّ لَہُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ ، وَأَنَّ عَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِینَ ، وَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَہُمْ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ یَکُونُونَ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ یَجْرِی عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللہِ الَّذِی یَجْرِی عَلَی الْمُؤْمِنِینَ ، وَلاَ یَکُونُ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنِیمَۃِ نَصِیبٌ إِلاَّ أَنْ یُجَاہِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ ، فَإِنْ أَبَوْا فَادْعُہُمْ إلَی إعْطَائِ الْجِزْیَۃِ ، فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ، وَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللہِ وَقَاتِلْہُمْ۔
(٣٣٣٠٠) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی شخص کو کسی سریہ یا لشکر پر امیر بنا کر بھیجتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو وصیت فرماتے کہ جب تم اپنے دشمن مشرکین سے ملو۔ تو تم ان کو تین باتوں یا عادتوں میں سے ایک کی طرف دعوت دو ۔ پس وہ لوگ ان میں سے جس بات کو بھی مان لیں تم اس کو قبول کرو اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جاؤ ۔ سب سے پہلے ان کو اسلام کی طرف بلاؤ۔ اگر وہ قبول کرلیں تو ان سے لڑائی کرنے سے رک جاؤ اور ان کا اسلام قبول کرو۔ پھر ان کو اس بات کی طرف دعوت دو کہ وہ اپنے علاقہ کو چھوڑ کر مہاجرین کے علاقہ میں آجائیں اور ان کو بتلا دو بیشک اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی اجر وثواب ہوگا جو مہاجرین کے لیے ہے اور ان پر وہی اعمال لازم ہوں گے جو مہاجرین پر لازم ہیں اگر وہ اس بات سے انکار کردیں ۔ اور اپنے شہر ہی کا انتخاب کریں تو پھر بھی ان کو بتلا دو کہ وہ لوگ مسلمان دیہاتیوں کی طرح ہوں گے۔ ان پر اللہ کا وہی حکم جاری ہوگا جو مومنین پر جاری ہوتا ہے۔ اور ان کا مال فئی اور مال غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔ پس اگر وہ اس بات کا بھی انکار کردیں تو ان کو جزیہ دینے کی طرف بلاؤ۔ اگر وہ مان جائیں تو ان کی طرف سے یہ قبول کرو اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جاؤ۔ اور اگر وہ انکار کردیں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے قتال کرو۔