(۳۳۳۸۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ الثَّقَفِیِّ ، قَالَ : وَضَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَی السَّوَادِ عَلَی کُلِّ جَرِیبِ أَرْضٍ یَبْلُغُہُ الْمَائُ عَامِرٍ ، أَوْ غَامِرٍ دِرْہَمًا وَقَفِیزًا مِنْ طَعَامٍ وعَلَی الْبَسَاتِینِ عَلَی کُلِّ جَرِیبٍ عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ وَعَشْرَۃَ أَقْفِزَۃٍ مِنْ طَعَامٍ ، وَعَلَی الرِّطَابِ عَلَی کُلِّ جَرِیبِ أَرْضٍ خَمْسَۃَ دَرَاہِمَ وَخَمْسَۃَ أَقْفِزَۃٍ مِنْ طَعَامٍ وَعَلَی الْکُرُومِ عَلَی کُلِّ جَرِیبِ أَرْضٍ عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ وَعَشْرَۃَ أَقْفِزَۃٍ، وَلَمْ یَضَعْ عَلَی النَّخْلِ شَیْئًا جَعَلَہُ تَبَعًا لِلأَرْضِ۔
(٣٣٣٨٢) حضرت ابو عون محمد بن عبداللہ الثقفی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب سواد والوں پر ہر کھیتی میں جس کی زمین پانی سے سیراب ہوتی ہو چاہے آباد ہو یا غیر آباد ایک درہم اور کھانے کا ایک قفیز مقرر فرمایا : اور باغات کی تمام کھیتیوں پر دس درہم اور کھانے کے دس قفیز مقرر فرمائے۔ اور سبزیوں کی تمام کھیتیوں پر پانچ درہم اور کھانے کے پانچ قفیز مقرر فرمائے۔ اور انگور کی مکمل کھیتی پر دس درہم اور کھانے کے دس قفیز مقرر فرمائے اور کھجور کی کھیتی پر کچھ مقرر نہیں فرمایا۔ اسے زمین کے تابع قرار دیا۔