(۳۳۳۹۵) حَدَّثَنَا ہُشَیم ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ، قَالَ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ عُرَیْنَۃَ الْمَدِینَۃَ فَاجْتَوَوْہَا ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إلَی إبِلِ الصَّدَقَۃِ فَتَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا فَفَعَلُوا وَاسْتَصَحُّوا ، قَالَ : فَمَالُوا عَلَی الرُِّاعَاء فَقَتَلُوہُمْ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَفَرُوا بَعْدَ إسْلاَمِہِمْ ، فَبَعَثَ فِی آثَارِہِمْ فَأُتِیَ بِہِمْ فَقَطَّعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَلَ أَعْیُنَہُمْ وَتُرِکُوا بِالْحَرَّۃِ حَتَّی مَاتُوا۔ (مسلم ۱۲۹۶۔ ابویعلی ۳۹۸۲)
(٣٣٣٩٥) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے تو ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اگر تم چاہو تو صدقے کے اونٹوں کی طرف نکل جاؤ۔ اور ان کے دودھ اور پیشاب میں سے کچھ پیو پس انھوں نے ایسا کیا تو وہ صحت یاب ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ لوگ چرواہوں کی طرف مائل ہوئے اور انھوں نے ان کو قتل کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند مویشی ہانک کرلے گئے اور اسلام لانے کے بعد انھوں نے کفر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پیچھے ایک جماعت کو بھیجا پس ان کو پکڑ کر لایا گیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں کو داغا گیا اور انھیں حرہ کے مقام پر چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ یہ لوگ مرگئے۔