hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 33398

.

ابن أبي شيبة

33398
Ibn Abi Shaybah
(۳۳۳۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ ، قَالَ : ارْتَدَّ عَلْقَمَۃُ بْنُ عُلاَثَۃَ ، عَنْ دِینِہِ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَاتَلَہُ الْمُسْلِمُونَ ، قَالَ : فَأَبَی أَنْ یَجْنَحَ لِلسَّلْمِ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : لاَ یُقْبَلُ مِنْک إِلاَّ سَلْمٌ مُخْزِیَۃٌ ، أَوْ حَرْبٌ مُجْلِیَۃٌ ، قَالَ ، فَقَالَ : وَمَا سَلْمٌ مُخْزِیَۃٌ ، قَالَ : تَشْہَدُونَ عَلَی قَتْلاَنَا أَنَّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ ، وَأَنَّ قَتْلاَکُمْ فِی النَّارِ ، وَتَدُونَ قَتْلاَنَا ، وَلاَ نَدِی قَتْلاَکُمْ ، فَاخْتَارُوا سِلْمًا مُخْزِیَۃً۔
(٣٣٣٩٩) حضرت عاصم بن قرہ (رض) فرماتے ہیں کہ علقمہ بن علاثہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ، اپنے دین سے مرتد ہوگیا ۔ تو مسلمانوں نے اس سے قتال کیا۔ راوی کہتے ہیں : اس نے صلح کے لیے جھکنے سے انکار کردیا۔ تو حضرت ابوبکر (رض) نے اس سے فرمایا : تم سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا سوائے رسوا کردینے والی صلح کے یا سخت جنگ کے۔ اس نے پوچھا : رسوا کردینے والی صلح سے کیا مراد ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : یہ کہ تم ہمارے مردوں کے بارے میں اس بات کی گواہی دو کہ بیشک وہ جنت میں ہیں۔ اور یقیناً تمہارے مردے جہنم میں ہیں۔ اور تم ہمارے مقتولین کی دیت ادا کرو گے اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے۔ تو ان لوگوں نے رسوائی والی صلح کا انتخاب کرلیا۔