hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 33405

.

ابن أبي شيبة

33405
Ibn Abi Shaybah
(۳۳۴۰۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَامِرٌ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَہُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَلَحِقُوا بِالْمُشْرِکِینَ فَقُتِلُوا فِی الْقِتَالِ ، فَلَمَّا أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِفَتْحِ تُسْتَرَ ، قَالَ : مَا فَعَلَ النَّفَرُ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ ، قَالَ : قُلْتُ عَرَضْت فِی حَدِیثٍ آخَرَ لأَشْغَلَہُ عَنْ ذِکْرِہِمْ ، قَالَ : مَا فَعَلَ النَّفَرُ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ، قَالَ: قُلْتُ: قُتِلُوا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَ: لَوْ کُنْتُ أَخَذْتہم سِلْمًا کَانَ أَحَبُّ إلَیَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ مِنْ صَفْرَائَ وَبَیْضَائَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، وَمَا کَانَ سَبِیلُہُمْ لَوْ أَخَذْتہمْ إِلاَّ الْقَتْلَ، قَوْمٌ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَلَحِقُوا بِالشِّرْکِ، قَالَ: کُنْتُ أَعْرِضُ أَنْ یَدْخُلُوا فِی الْبَابِ الَّذِی خَرَجُوا مِنْہُ، فَإِنْ فَعَلُوا قبِلْت ذَلِکَ مِنْہُمْ، وَإِنْ أَبَوْا اسْتَوْدَعْتہمَ السِّجْنَ۔
(٣٣٤٠٦) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے ارشاد فرمایا : قبیلہ بکر بن وائل کے کچھ افراد اسلام سے مرتد ہوگئے اور مشرکین سے جا ملے۔ پھر ان کو جنگ میں قتل کردیا گیا۔ پھر جب میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس تستر کی فتح کی خبر لے کر آیا۔ تو آپ (رض) نے فرمایا : قبیلہ بکر بن وائل کے لوگوں کا کیا معاملہ ہوا ؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے آپ (رض) کے سامنے دوسری بات شروع کردی تاکہ میں آپ (رض) کو ان کے ذکر سے ہٹا دوں، لیکن آپ (رض) نے پھر پوچھا : قبیلہ بکر بن وائل کے گروہ کا کیا معاملہ ہوا ؟ میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! ان کو قتل کردیا گیا ۔ آپ (رض) نے فرمایا : اگر میں ان سے صلح کا معاملہ کرتا تو یہ بات میرے نزدیک اس سونا، چاندی سے زیادہ محبوب ہوتی جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! اگر آپ (رض) ان لوگوں کو پکڑ لیتے جو اسلام سے مرتد ہوئے اور مشرکین سے جا ملے تو ان کے قتل کے سوا کیا راستہ ہوسکتا تھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : میں ان کے سامنے یہ بات پیش کرتا کہ وہ اسی دروازے میں داخل ہوجائیں جس سے وہ نکلے ہیں پس اگر وہ ایسا کرتے تو میں ان کی طرف سے یہ چیزیں قبول کرلیتا اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کردیتے تو میں ان کو جیلوں میں قید کردیتا۔