(۳۳۴۰۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ أَبِی عُلاَقَۃَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ سَرِیَّۃً فَوَجَدُوا رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ تَنَصَّرَ بَعْدَ إسْلاَمِہِ فَقَتَلُوہُ ، فَأُخْبِرَ عُمَرُ بِذَلِکَ ، فَقَالَ : ہَلْ دَعَوْتُمُوہُ إلَی الإِسْلاَمِ ، قَالُوا : لاَ قَالَ : فَإِنِّی أَبْرَأُ إلَی اللہِ مِنْ دَمِہِ۔
(٣٣٤٠٨) حضرت ابو علاقہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک لشکر بھیجا پس ان لوگوں نے مسلمانوں میں سے ایک آدمی پایا جو اسلام لانے کے بعد عیسائی ہوگیا ۔ تو انھوں نے اس شخص کو قتل کردیا۔ پھر حضرت عمر (رض) کو اس کی خبر دی گئی آپ (رض) نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے اس کو اسلام کی دعوت دی تھی ؟ انھوں نے کہا : نہیں ! آپ (رض) نے فرمایا : یقیناً پھر تو میں اللہ کی طرف اس کے خون سے بری ہوں۔