(۳۳۴۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَیْدٍ الْعَامِرِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ أُنَاسٌ یَأْخُذُونَ الْعَطَائَ وَالرِّزْقَ وَیُصَلُّونَ مَعَ النَّاسِ ، وَکَانُوا یَعْبُدُونَ الأَصْنَامَ فِی السِّرِ ، فَأَتَی بِہِمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَوَضَعَہُمْ فِی الْمَسْجِدِ ، أَوَ قَالَ فِی السِّجْنِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، مَا تَرَوْنَ فِی قَوْمٍ کَانُوا یَأْخُذُونَ مَعَکُمَ الْعَطَائَ وَالرِّزْقَ وَیَعْبُدُونَ ہَذِہِ الأَصْنَامَ ؟ قَالَ النَّاسُ : اقْتُلْہُمْ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ أَصْنَعُ بِہِمْ کَمَا صَنَعُوا بِأَبِینَا إبْرَاہِیمَ ، فَحَرَّقَہُمْ بِالنَّارِ۔
(٣٣٤١٤) حضرت عبید العامری (رض) فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ تھے جو روزینہ اور عطیات لیتے تھے۔ اور لوگوں کے ساتھ تو نماز پڑھتے اور پوشیدگی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ان لوگوں کو حضرت علی (رض) کے پاس لایا گیا۔ تو آپ (رض) نے ان کے مسجد میں یا قید خانہ میں ڈال دیا۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تمہاری کیا رائے ہے اس قوم کے بارے میں جو تمہارے ساتھ روزینہ اور عطیات لیتے ہیں اور ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : ان کو قتل کردیا جائے۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! لیکن میں ان کے ساتھ وہ معاملہ کروں گا جو انھوں نے ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا۔ پھر آپ (رض) نے ان کو آگ میں جلا ڈالا۔