(۳۳۴۳۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، قَالَ : کَتَبَ عَامِلٌ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ مِنَ الْیَمَنِ أَنَّ رَجُلاً کَانَ یَہُودِیًّا فَأَسْلَمَ ، ثُمَّ تَہَوَّدَ ، وَرَجَعَ عَنِ الإِسْلاَمِ ، فَکَتَبَ إلَیْہِ عُمَرُ أَنَ ادْعُہُ إلَی الإِسْلاَمِ ، فَإِنْ أَسْلَمَ فَخَلِّ سَبِیلَہُ ، وَإِنْ أَبِی فَادْعُ بالخشبۃ ، ثُمَّ ادْعُہُ فَإِنْ أَبَی فَأَضْجِعْہُ عَلَیْہَا ، ثُمَّ ادْعُہُ فَإِنْ أَبَی فَأَوْثِقْہُ ، ثُمَّ ضَعَ الحربۃ عَلَی قَلْبِہِ ، ثُمَّ ادْعُہُ ، فَإِنْ رَجَعَ فَخَلِّ سَبِیلَہُ ، وَإِنْ أَبَی فَاقْتُلْہُ ، فَلَمَّا جَائَ الْکِتَابُ فَعَلَ بِہِ ذَلِکَ حَتَّی وَضَعَ الْحَرْبَۃَ عَلَی قَلْبِہِ ، ثُمَّ دَعَاہُ فَأَسْلَمَ فَخَلَّی سَبِیلَہُ۔
(٣٣٤٣٠) حضرت ولید ابن جُمیع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے ایک گورنر نے یمن سے آپ (رض) کو خط لکھا کہ ایک آدمی یہودی تھا اس نے اسلام قبول کرلیا پھر اس نے دوبارہ یہودیت کو اختیار کرلیا، اور اسلام سے پھر گیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کا جواب لکھا کہ اس کو اسلام کی دعوت دو ۔ اگر وہ اسلام لے آئے۔ تو اس کو چھوڑ دو اگر وہ انکار کر دے تو اس کو لکڑی کے ذریعہ مارو اگر وہ انکار کر دے تو اس کو لکڑی پر لٹا دو پھر اس کو اسلام کی طرف دعوت دو ، اگر پھر بھی انکار کر دے تو تم اس کو باندھو اور اس کے دل میں نیزہ کی نوک رکھ دو پھر دوبارہ اس کو اسلام کی طرف دعوت دو ۔ پس اگر وہ لوٹ آئے تو اس کو چھوڑ دو ، اور اگر انکار کر دے تو اس کو قتل کردو۔ جب خط آیا تو اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا گیا یہاں تک کہ اس کے دل پر نیزہ کی نوک رکھ دی گئی پھر اس کو اسلام کی طرف دعوت دی وہ اسلام لے آیا تو انھوں نے اس کو چھوڑ دیا۔