(۳۳۴۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً مِنْ مُرَادٍ صلَّی ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو مُوسَی قَامَ ، فَقَالَ : ہَذَا مَقَامُ التَّائِبِ الْعَائِذِ ، فَقَالَ : وَیْلَک مَا لَکَ ، قَالَ : أَنَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ الْمُرَادِی ، وَإِنِّی کُنْتُ حَارَبْت اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَسَعَیْت فِی الأَرْضِ فَسَادًا ، فَہَذَا حِینَ جِئْت وَقَدْ تُبْت مِنْ قَبْلِ أَنْ یُقْدَرَ عَلَیَّ ، قَالَ : فَقَامَ أَبُو مُوسَی الْمَقَامَ الَّذِی قَامَ فِیہِ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّ ہَذَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ الْمُرَادِیُّ : وَإِنَّہُ کَانَ حَارَبَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَسَعَی فِی الأَرْضِ فَسَادًا ، وَإِنَّہُ قَدْ تَابَ مِنْ قَبْلِ أَنْ یُقْدَرَ عَلَیْہِ ، فَإِنْ یَکُ صَادِقًا فَسَبِیلُ مَنْ صَدَقَ ، وَإِنْ کَانَ کَاذِبًا یَأْخُذُہُ اللَّہُ بِذَنْبِہِ ، قَالَ : فَخَرَجَ فِی النَّاسِ فَذَہَبَ ونجا ، ثُمَّ عَادَ فَقُتِلَ۔
(٣٣٤٦١) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ قبیلہ مراد کے ایک آدمی نے نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں : جب حضرت ابو موسیٰ (رض) نے سلام پھیرا تو وہ شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا : یہ توبہ کرنے والے اور پناہ مانگنے والے کی جگہ ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : ہلاکت ہو تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا : میں فلاں بن فلاں مرادی ہوں۔ اور تحقیق میں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی اور میں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھاگ دوڑ کی۔ اور تحقیق میں اب آیا ہوں اس حال میں کہ میں نے خود پر قدرت ہوجانے سے پہلے توبہ کی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ (رض) اس جگہ میں کھڑے ہوئے جہاں وہ کھڑا تھا پھر آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ فلاں بن فلاں مرادی ہے اور اس نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی اور زمین میں فساد مچانے کی بھاگ دوڑ کی اور بیشک اس نے خود پر قدرت ہوجانے سے پہلے ہی توبہ کرلی۔ پس اگر یہ شخص سچا ہے تو اس کے ساتھ سچوں والا معاملہ ہے۔ اور اگر یہ جھوٹا ہے تو اللہ رب العزت اس کے گناہ کی وجہ سے اس کو پکڑے گا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ شخص لوگوں میں نکلا اور چلا گیا اور نجات پا لی۔ پھر اس نے دوبارہ وہی کام کیا تو اس کو قتل کردیا گیا۔