(۳۳۴۹۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَیْمَانَ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ أَبِی قُرَّۃَ ، قَالَ : جَائَنَا کِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ أُنَاسًا یَأْخُذُونَ مِنْ ہَذَا الْمَالِ یُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللہِ ، ثُمَّ یُخَالِفُونَ ، وَلاَ یُجَاہِدُونَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ مِنْہُمْ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمَالِہِ حَتَّی نَأْخُذَ مِنْہُ مَا أَخَذَ ، قَالَ أبو إِسْحَاقُ: فَقُمْت إلَی یسیر بْنِ عَمْرٍو ، فَقُلْتُ : أَلاَ تَرَی إلَی مَا حَدَّثَنِی بِہِ عَمْرُو بْنُ أَبِی قُرَّۃَ وَحَدَّثْت بِہِ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، جَائَ بِہِ کِتَابُ عُمَرَ۔
(٣٣٤٩٧) حضرت عمرو بن ابی قرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب (رض) کا خط آیا : آپ (رض) نے لکھا تھا : بیشک کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس مال میں سے حصہ لیتے ہیں کہ وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کریں گے پھر وہ اس کے خلاف کرتے ہیں اور جہاد نہیں کرتے ۔ پس ان میں جو شخص بھی ایسا کرے تو ہم اس مال کے زیادہ حقدار ہیں یہاں تک کہ ہم اس سے وہ مال وصول کرلیں گے جو اس نے لیا تھا۔ ابو اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت یسیربن عمرو کے پاس اٹھ کر گیا اور میں نے عرض کیا : آپ (رض) کی کیا رائے ہے اس حدیث کے بارے میں جو عمرو بن ابی قرہ نے مجھے بیان کی ہے ؟ اور میں نے وہ حدیث حضرت یسیر سے بیان کی۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس نے سچ کہا وہ حضرت عمر (رض) کا خط لایا تھا۔