(۳۳۵۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَۃَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَطَائً ، عَنْ رَجُلٍ أَسَرَتْہُ الدَّیْلَمُ فَأَخَذُوا مِنْہُ عَہْدَ اللہِ وَمِیثَاقَہُ عَلَی أَنْ یُرْسِلُوہُ ، فَإِنْ بُعِثَ إلَیْہِمْ بفداء قد سموہ فَہُوَ بَرِیئٌ ، وَإِنْ لَمْ یُبْعَثْ إلَیْہِمْ کَانَ عَلَیْہِ الْعَہْدُ وَالْمِیثَاقُ أَنْ یَرْجِعَ إلَیْہِمْ فَلَمْ یَجِد ، وَکَانَ مُعْسِرًا ، قَالَ یفی بِالْعَہْدِ ، فَقَالَ : إنَّہُمْ أَہْلُ شِرْک ، فَأَبَی عَطَائٌ إِلاَّ أَنْ یَفِیَ بِالْعَہْدِ۔
(٣٣٥٢٥) حضرت محمد بن سوقہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عطائ (رض) سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جس کو دیلمی لوگوں نے قیدی بنا لیا تھا۔ اور اس سے اللہ کا عہد و پیمان لے کر چھوڑ دیا کہ اگر وہ ان کی طرف فدیہ بھیج دے گا تو وہ بری ہوگا۔ اور ان لوگوں نے فدیہ مقرر کردیا تھا۔ اور اگر اس نے فدیہ نہ بھیجا تو وہ عہد و پیمان کے مطابق ان کی طرف واپس لوٹ جائے گا۔ پس اس شخص کو فدیہ کی رقم نہ مل سکی اس لیے کہ وہ تنگدست تھا۔ اب وہ کیا کرے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : وہ وعدہ پورا کرے گا۔ اس آدمی نے کہا : حضرت وہ مشرکین ہیں ! حضرت عطائ (رض) نے انکار کیا اور فرمایا : کہ ہر صورت میں وعدہ کی وفاء ضروری ہوگی۔