(۳۳۵۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الطُّفَیْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ ، قَالَ : مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلاَّ أَنِّی خَرَجْت أَنَا ، وَأَبِی حُسَیْلٍ ، قَالَ : فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ فَقَالُوا : إنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا : مَا نُرِیدُہُ ، مَا نُرِیدُ إِلاَّ الْمَدِینَۃَ ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَہْدَ اللہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إلَی الْمَدِینَۃِ، وَلاَ نُقَاتِلُ مَعَہُ ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : انْصَرِفَا ، نَفِی لَہُمْ وَنَسْتَعِینُ اللَّہَ عَلَیْہِمْ۔ (مسلم ۱۴۱۴۔ احمد ۳۹۵)
(٣٣٥٢٧) حضرت ابوالطفیل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن الیمان (رض) نے ارشاد فرمایا : مجھے غزوہ بدر میں شرکت سے نہیں روکا تھا مگر اس بات نے کہ میں اور میرے والد حسیل (رض) نکلے ہوئے تھے کہ ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے۔ تم لوگ محمد کے پاس جا رہے ہو۔ تو ہم نے کہا : ہم ان کے پاس نہیں جا رہے ، ہمارا تو صرف مدینہ جانے کا ارادہ ہے۔ تو انھوں نے ہم سے عہد و پیمان لیا کہ ہم مدینہ لوٹ جائیں گے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں قتال نہیں کریں گے ۔ تو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس واقعہ کی خبر دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں واپس لوٹ جاؤ ہم ان سے بھی عہد کی وفا کریں گے۔ اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔