(۳۳۵۳۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِیٌّ ، عَنْ مُکَاتَبٍ سَبَاہُ الْعَدُوُّ ، ثُمَّ اشْتَرَاہُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَقَالَ : إِنْ أَحَبَّ مَوْلاَہُ أَنْ یَفتکَّہُ فَیَکُونَ عِنْدَہُ عَلَی مَا بَقِیَ مِنْ مُکَاتَبَتِہِ وَیَکُونُ لَہُ الْوَلاَئُ ، وَإِنْ کَرِہَ ذَلِکَ کَانَ عِنْدَ الَّذِی اشْتَرَاہُ عَلَی ہَذِہ الْحَالِ۔
(٣٣٥٣٣) حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) سے اس مکاتب غلام کے متعلق پوچھا گیا : جس کو دشمن نے قید کرلیا تھا پھر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس کو خرید لیا اب اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اگر اس کا آقا چاہتا ہے تو وہ اس کو رہن دے کر چھڑا لے پھر یہ غلام اپنے آقا کے پاس اس طور پر رہے گا کہ یہ اپنی باقی بچی ہوئی بدل کتابت ادا کرے گا۔ اور آقا کو اس غلام کی ولاء ملے گی۔ اور اگر وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا تو یہ غلام خریدنے والے کے پاس اسی حالت میں رہے گا۔