hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 33534

.

ابن أبي شيبة

33534
Ibn Abi Shaybah
(۳۳۵۳۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ مِنَ الْبَحْرَیْنِ ، قَالَ : فَقَدِمْت عَلَیْہِ فَصَلَّیْت مَعَہُ الْعِشَائَ ، فَلَمَّا رَآنِی سَلَّمْت عَلَیْہِ ، فَقَالَ : مَا قَدِمْت بِہِ قُلْتُ : قَدِمْت بِخَمْسِمِئَۃِ أَلْفٍ ، قَالَ : تَدْرِی مَا تَقُولُ ، قَالَ : قَدِمْت بِخَمْسِمِئَۃِ أَلْفٍ ، قَالَ : قُلْتُ : مِئَۃَ أَلْفٍ ومِئَۃَ أَلْفٍ ومِئَۃَ أَلْفٍ ومِئَۃَ أَلْفٍ ومِئَۃَ أَلْفٍ حَتَّی عَدَّ خَمْسًا ، قَالَ : إنَّک نَاعِسٌ ، ارْجِعْ إلَی بَیْتِکَ فَنَمْ ، ثُمَّ اغْدُ عَلَیَّ ، قَالَ : فَغَدَوْت عَلَیْہِ ، فَقَالَ : مَا جِئْت بِہِ قُلْتُ : بِخَمْسِمِئَۃِ أَلْفٍ ، قَالَ : طَیِّبٌ ، قُلْتُ : طَیِّبٌ ، لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ ذَاکَ ، قَالَ : فَقَالَ لِلنَّاسِ : إِنَّہُ قَدِمَ عَلَیَّ مَالٌ کَثِیرٌ فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعُدَّہُ لَکُمْ عَدًّا ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَکِیلَہُ لَکُمْ کَیْلاً ، فَقَالَ رَجُلٌ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إنِّی رَأَیْت ہَؤُلاَئِ الأَعَاجِمَ یُدَوِّنُونَ دِیوَانًا وَیُعْطُونَ النَّاسَ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَدَوَّنَ الدِّیوان وَفَرَضَ لِلْمُہَاجِرِینَ فِی خَمْسَۃِ آلاَفٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ وَلِلأَنْصَارِ فِی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لأَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا۔
(٣٣٥٣٥) حضرت ابو سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ وہ بحرین سے حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ میں آیا اور میں نے حضرت عمر (رض) کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جب انھوں نے مجھے دیکھا تو میں نے ان کو سلام کیا انھوں نے فرمایا : تم کیا چیز ساتھ لائے ہو ؟ میں نے کہا : میں پانچ لاکھ ساتھ لایا ہوں۔ انھوں نے فرمایا : تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ میں نے کہا : میں پانچ لاکھ ساتھ لایا ہوں۔ انھوں نے فرمایا : تم کہہ رہے ہو کہ ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ۔ یہاں تک کہ انھوں نے پانچ مرتبہ شمار کیا۔ اور فرمایا : بیشک تمہیں اونگھ آرہی ہے۔ تم اپنے گھر جاؤ اور سو جاؤ۔ پھر کل میرے پاس آنا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں اگلے دن ان کے پاس آیا ۔ انھوں نے پوچھا : تم کیا لائے ہو ؟ میں نے کہا : پانچ لاکھ۔ انھوں نے پوچھا : واقعی ؟ میں نے کہا : واقعی : اور میں تو صرف یہی جانتا ہوں۔ آپ (رض) نے لوگوں سے کہا : میرے پاس بہت زیادہ مال آیا۔ اگر تم چاہو تو میں مال تمہارے لیے شمار کروں اور اگر چاہو تو میں اس مال کو تمہارے لیے کیل کروں۔ اس پر ایک آدمی نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک میں نے ان عجمیوں کو دیکھا ہے کہ وہ دیوان عدل مدون کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر لوگوں کو عطا کرتے ہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) نے دیوان عدل مدون کروایا اور مہاجرین کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور انصار صحابہ (رض) کے لیے چار چار ہزار مقرر فرمائے۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات (رض) کے لیے بارہ بارہ ہزار مقرر فرمائے۔