(۳۳۵۳۸) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَلِیًّا بِابْنِ عَمٍّ لِی ، فَقُلْتُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، افْرِضْ لِہَذَا ، قَالَ : أَرْبَعٌ ، یَعْنِی أَرْبَعَمِئَۃٍ ، قَالَ : قُلْتُ : إنَّ أَرْبَعَمِئَۃٍ لاَ تُغْنِی شَیْئًا ، زِدْہُ الْمِائَتَیْنِ الَّتِی زِدْت النَّاسَ ، قَالَ : فَذَاکَ لَہُ ، قَالَ : وَقَدْ کَانَ زَادَ النَّاسَ مِئَتَیْنِ۔
(٣٣٥٣٨) حضرت قیس (رض) فرماتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے بیٹے کو لے کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں آیا اور میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین : اس کے لیے بھی عطیہ مقرر فرما دیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : چار سو درہم۔ میں نے عرض کیا : بیشک چار سو درہم اس کو کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔ آپ (رض) اس کے لیے دو سو درہم مزید بڑھا دیں۔ جیسا کہ آپ (رض) نے لوگوں کے بڑھائے ہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کے لیے بھی بڑھا دیے۔ راوی کہتے ہیں : کہ آپ (رض) نے لوگوں کے لیے دو سو درہم بڑھا دیے تھے۔