(۳۳۵۴۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الْحُوَیْرِثِ أَنَّ عُمَرَ فَرَضَ لِلْعَبَّاسِ سَبْعَۃَ آلاَفٍ ، وَلِعَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ عَشْرَۃَ آلاَفٍ ، وَلأمِّ سَلَمَۃَ وَأُمِّ حَبِیبَۃَ وَمَیْمُونَۃَ وَسَوْدَۃَ ، ثَمَانیَۃَ آلاَفٍ ، ثَمَانیَۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لِجُوَیْرِیَۃَ وَصَفِیَّۃَ سِتَّۃَ آلاَفٍ سِتَّۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لِصَفِیَّۃَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ نِصْفَ مَا فَرَضَ لَہُنَ ، فَأَرْسَلَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ وَصَوَاحِبُہَا إلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقُلْنَ لَہُ : کَلِّمْ عُمَرَ فِینَا فَإِنَّہُ قَدْ فَضَّلَ عَلَیْنَا عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ فَجَائَ عُثْمَان إلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : إنَّ أُمَّہَاتِکَ یَقُلْنَ لَکَ : سَوِّ بَیْنَنَا ، لاَ تُفَضِّلْ بَعْضَنَا عَلَی بَعْضٍ ، فَقَالَ : إِنْ عِشْت إلَی الْعَامِ الْقَابِلِ زِدْتہنَّ لِقَابِلٍ أَلْفَیْنِ أَلْفَیْنِ فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْقَابِلُ جَعَلَ عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ فِی اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَجَعَلَ أُمَّ سَلَمَۃَ وَأُمَّ حَبِیبَۃَ فِی عَشْرَۃِ آلاَفٍ ، عَشْرَۃِ آلاَفٍ ، وَجَعَلَ صَفِیَّۃَ وَجُوَیْرِیَۃَ فِی ثَمَانِیَۃِ آلاَفٍ ، ثَمَانِیَۃِ آلاَفٍ ، فَلَمَّا رَأَیْنَ ذَلِکَ سَکَتْنَ عَنْہُ۔
(٣٣٥٤٧) حضرت ابو الحویرث (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عباس (رض) کے لیے سات ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت عائشہ (رض) اور حضرت حفصہ (رض) کے لیے دس دس ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت ام سلمہ (رض) ، حضرت ام حبیبہ (رض) ، حضرت میمونہ (رض) اور حضرت سودہ (رض) کے لیے آٹھ آٹھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت جویریہ (رض) اور حضرت صفیہ (رض) کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت صفیہ بنت عبد الملک (رض) کے لیے ان کے مقرر کردہ حصوں کا آدھا مقرر فرمایا۔ اس پر حضرت ام سلمہ (رض) اور ان کی ساتھیوں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس قاصد بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ (رض) حضرت عمر (رض) سے ہمارے بارے میں بات کریں۔ انھوں نے عائشہ (رض) اور حفصہ (رض) کو ہم پر فضیلت دی ہے۔ تو حضرت عثمان (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور فرمایا : یقیناً تیری مائیں تجھ سے کہہ رہی ہیں کہ ہمارے درمیان برابری کرو، اور ہم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت مت دو ۔ آپ (رض) نے فرمایا : اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو آئندہ ان کے لیے مزید دو دو ہزار کا اضافہ کروں گا۔ پس جب اگلا سال آیا تو آپ (رض) نے حضرت عائشہ (رض) اور حضرت حفصہ (رض) کے بارہ بارہ ہزار مقرر فرما دیے اور حضرت ام سلمہ (رض) اور حضرت ام حبیبہ (رض) کے دس دس ہزار مقرر فرما دیے۔ اور حضرت صفیہ (رض) اور حضرت جویریہ (رض) کے آٹھ آٹھ ہزار مقرر فرما دیے۔ جب انھوں نے یہ معاملہ دیکھا تو سب خاموش ہوگئیں۔