(۳۳۵۵۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ الْمُہَاجِرِینَ عَلَی خَمْسَۃِ آلاَفٍ وَالأَنْصَارَ عَلَی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ ، وَمَنْ لَمْ یَشْہَدْ بَدْرًا مِنْ أَوْلاَدِ الْمُہَاجِرِینَ عَلَی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ ، وَکَانَ مِنْہُمْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَحْشٍ ، وَعُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ : إنَّ عَبْدَ اللہِ لَیْسَ مِثْلَ ہَؤُلاَئِ ، إنَّ عَبْدَ اللہِ مَنْ أَمْرِہ مَنْ أَمْرِہ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ لِعُمَرَ : إِنْ کَانَ حَقًّا لِی فَأَعْطِنِیہِ ، وَإِلاَّ فَلاَ تُعْطِنِیہِ فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : فَاکْتُبْنِی عَلَی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ ، وَعَبْدَ اللہِ عَلَی خَمْسَۃِ آلاَفٍ ، وَاللہِ لاَ یَجْتَمِعُ أَنَا وَأَنْتَ عَلَی خَمْسَۃِ آلاَفٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ : إِنْ کَانَ حَقًّا فَأَعْطِنِیہِ وَإِلاَّ فَلاَ تُعْطِنِیہِ۔
(٣٣٥٥١) حضرت انس بن مالک (رض) اور حضرت سعید بن المسیب (رض) دونوں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مہاجرین کے لیے پانچ ہزار مقرر فرمائے اور انصار کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے ۔ اور مہاجرین کی اولاد میں سے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ان کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے۔ ان میں اسامہ بن زید، محمد بن عبداللہ بن جحش ، عمر بن ابی سلمہ اور عبداللہ بن عمر شامل تھے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : یقیناً عبداللہ بن عمر (رض) ان کی طرح نہیں ہیں۔ بیشک عبداللہ تو ان کے امیر ہیں۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا : اگر یہ میرا حق ہے تو آپ (رض) مجھے ضرور دیں ورنہ آپ (رض) مجھے ہرگز مت دیں۔ تو حضرت عمر (رض) نے حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) سے فرمایا : تم میرے چار ہزار مقرر کردو۔ اور عبداللہ کے پانچ ہزار مقرر کردو۔ اللہ کی قسم میں اور تو پانچ ہزار پر جمع نہیں ہوسکتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : اگر میرا حق ہے تو مجھے دے دیجئے ورنہ آپ (رض) مجھے ہرگز مت دیجئے۔