(۳۳۵۹۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ یَزِیدَ الدِّمَشْقِیِّ ، عَنْ قَزَعَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِیدٍ ، عَنِ الصَّوْمِ فِی السَّفَرِ ، فَقَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَصُومُ وَنَصُومُ حَتَّی نَزَلْنَا مَنْزِلاً ، فَقَالَ : إنَّکُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَی لَکُمْ۔
(مسلم ۱۰۲۔ ابوداؤد ۲۳۹۸)
(٣٣٥٩٧) حضرت قزعہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید (رض) سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا ؟ تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر کیا پس ہم نے بھی روزہ رکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی روزہ رکھا یہاں تک کہ ہم ایک جگہ اترے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ تم اب اپنے دشمن کے قریب آگئے ہو تو تمہارے لیے روزہ کشائی زیادہ فائدہ مند ہے۔