(۳۳۶۰۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَبَّاسٌ أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّ امْرَأَۃً شکت إلی عَائِشَۃَ الْحَاجَۃَ ، قَالَتْ : وَمَا لَکَ ؟ قَالَتْ : کُنَّا نَأْخُذُ عَطَائَ إنْسَانٍ مَیِّتٍ فَرَفَعْنَاہُ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : لِمَ فَعَلْتُمْ ، أَخَرَجتم سَہمًا مِنْ فَیْئِ اللہِ کَانَ یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ أَخْرَجْتُمُوہُ مِنْ بَیْنِکُمْ، وذَلِکَ فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔
(٣٣٦٠٠) حضرت مطلب بن عبداللہ بن قیس بن مخرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ (رض) سے اپنی ضرورت کی شکایت کی تو آپ (رض) نے فرمایا : تجھے کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگی : ہم لوگ ایک مردہ انسان کی سالانہ تنخواہ لیتے تھے پس اب ہم نے اس کو ختم کردیا۔ اس پر حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تم نے اللہ کے مال سے وہ حصہ نکال دیا جو تم پر داخل ہوتا تھا اور تم نے اس کو اپنے گھر سے نکال دیا ! اور یہ واقعہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانہ خلافت کا ہے۔