(۳۳۶۵۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَنْظَلَۃَ بْنُ نُعَیم أَنَّ سَعْدًا کَتَبَ إلَی عُمَرَ أَنَّا أَخَذْنَا أَرْضًا لَمْ یُقَاتِلْنَا أَہْلُہَا ، قَالَ : فَکَتَبَ إلَیْہِ عُمَرُ : إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَقْسِمُوہَا بَیْنَکُمْ فَاقْسِمُوہَا ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَدَعُوہَا فَیَعْمُرُہَا أَہْلُہَا وَمَنْ دَخَلَ فِیکُمْ بَعْدُ کَانَ لَہُ فِیہَا نَصِیبٌ ، فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ تَشَاحُّوا فیہا وَفِی شُرْبِہَا فَیَقْتُلُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا ، فَکَتَبَ إلَیْہِ سَعْدٌ : إِنَّ الْمُسْلِمِینَ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَی أَنَّ رَأْیَہُمْ لِرَأْیِکَ تَبَعٌ ، فَکَتَبَ إلَیْہِ أَنْ یَرُدُّوا الرَّقِیقَ إلَی امْرَأَۃٍ حَمَلَتْ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔
(٣٣٦٥٢) حضرت ابو حنظلہ بن نعیم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے حضرت عمر (رض) کی طرف خط لکھا کہ ہم نے ایک علاقہ پر بغیر قتال کے قبضہ کرلیا ہے۔ اب ہم کیا کریں ؟ حضرت عمر (رض) نے ان کو خط کا جواب لکھا : اگر تم لوگ اس علاقہ کو اپنے درمیان تقسیم کرنا چاہو تو اس کو تقسیم کرلو اور اگر تم چاہو تو اس علاقہ کو چھوڑ دو اس کے مکین ہی اس کو آباد کرلیں گے۔ اور جو شخص تمہارے میں داخل ہوگا اس علاقہ میں اس کو حصہ مل جانے کے بعد تو مجھے خوف ہے کہ تم لوگ اس معاملہ میں اور پانی کی باری میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے۔ پھر تم میں سے بعض بعض کو قتل کردیں گے۔ حضرت سعد (رض) نے آپ (رض) کو خط لکھا اور فرمایا : بلاشبہ تمام مسلمانوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی رائے آپ (رض) کی رائے کے تابع ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو پھر خط لکھا اور فرمایا : کہ یہ لوگ غلاموں کو ان کی عورتوں کی طرف واپس لوٹا دیں چاہے وہ مسلمانوں میں کسی آدمی سے حاملہ ہوچکی ہو۔