(۳۳۶۷۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَطَائٌ ، عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ یُؤْخَذُ فِی أَہْلِ الشِّرْک ، فَیَقُولُ : لَمْ أُرِدْ عَوْنَہُمْ عَلَیْکُمْ وَقَدِ اشْتَرَطُوا عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَأْتِیَہُمْ فَکَرِہَ قَتْلَہُ إِلاَّ بِبَیِّنَۃٍ ، قَالَ : وَقَالَ حِینَئِذٍ لِعَطَائٍ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ : إذَا نَقَضَ شَیْئًا وَاحِدًا مِمَّا عَلَیْہِ فَقَدْ نَقَضَ الصُّلْحَ۔
(٣٣٦٧٤) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے پوچھا گیا اس ذمی شخص کے بارے میں جس کو مشرکین کی زمین میں پکڑ لیا گیا اس نے کہا : کہ میرا تمہارے خلاف ان کی مدد کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔۔۔ اور تحقیق ان لوگوں نے اس پر یہ شرط لگا دی کہ وہ مسلمانوں کے پاس نہیں آئے گا ؟ تو آپ (رض) نے اس کے قتل کو مکروہ سمجھا مگر گواہی کے ساتھ۔ راوی کہتے ہیں : کہ اس وقت بعض اہل علم نے حضرت عطائ (رض) سے فرمایا : جو چیز اس پر لازم تھی جب اس میں سے ایک چیز ختم کردی تو تحقیق صلح ختم ہوجائے گی۔