(۳۳۶۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَیْمٍ الزُّہْرِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ، قَالَ : لَمَّا بُعِثَ أَبُو مُوسَی عَلَی الْبَصْرَۃِ کَانَ مِمَّنْ بُعِثَ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ وَکَانَ مِنْ وَزرَائِہِ ، فَکَانَ یَقُولُ لَہُ : اخْتَرْ عَمَلاً ، فَقَالَ : الْبَرَائُ وَمُعْطِیَّ أَنْتَ مَا سَأَلْتُک ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا إنِّی لاَ أَسْأَلُک إمَارَۃَ مِصْرٍ ، وَلاَ جِبَایَۃَ خَرَاجٍ ، وَلَکِنْ أَعْطِنِی قَوْسِی وَفَرَسِی وَرُمْحِی وَسَیْفِی وَذَرْنِی إلَی الْجِہَادِ فِی سَبِیلِ اللہِ ، فَبَعَثَہُ عَلَی جَیْشٍ ، فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ قُتِلَ۔
(٣٣٦٨٦) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کو بصرہ کا امیر بنا کر بھیجا گیا تو ان کے ساتھ حضرت براء بن مالک (رض) کو بھی بھیجا گیا۔ اور یہ ان کے وزیروں میں سے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) ان سے فرمایا کرتے تھے ۔ تم بھی کوئی کام اختیار کرلو۔ اس پر حضرت برائ (رض) نے فرمایا : کیا جو عہدہ میں تم سے مانگوں گا وہ تم مجھے دو گے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جی ہاں ! انھوں نے فرمایا : بلاشبہ میں تم سے شہر کی نگرانی اور خراج کی وصول یابی کا عہدہ نہیں مانگتا لیکن تم مجھے میری کمان، میرا گھوڑا، میرا نیزہ اور میری تلوار دے دو ، اور مجھے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے چھوڑ دو پس آپ (رض) نے ان کو لشکر پر امیر بنا کر بھیج دیا تو یہ شہید ہونے والے سب سے پہلے شخص تھے۔