حدثنا أبو عبد الرحمن بقی بن مخلد قَالَ حدثنا عبد اللہ بن محمد بن أبی شیبۃ قَالَ :
(۳۳۷۲۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : لَمَّا غَزَا سَلْمَانُ الْمُشْرِکِینَ مِنْ أَہْلِ فَارِسَ ، قَالَ : کُفُّوا حَتَّی أَدْعُوَہُمْ کَمَا کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوہُمْ فَأَتَاہُمْ ، فَقَالَ : إنِّی رَجُلٌ مِنْکُمْ وَقَدْ تَرَوْنَ مَنْزِلَتِی مِنْ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ وَإِنَّا نَدْعُوکُمْ إلَی الإِسْلاَمِ ، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ فَلَکُمْ مِثْلُ مَا لَنَا وَعَلَیْکُمْ مِثْلُ مَا عَلَیْنَا ، وَإِنْ أَبَیْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْیَۃَ ، عَنْ یَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ ، وَإِنْ أَبَیْتُمْ قَاتَلْنَاکُمْ ، قَالُوا : أَمَّا الإِسْلاَمُ فَلاَ نُسْلِمُ ، وَأَمَّا الْجِزْیَۃُ فَلاَ نُعْطِیہَا ، وَأَمَّا الْقِتَالُ فَإِنَّا نُقَاتِلُکُمْ ، قَالَ: فَدَعَاہُمْ کذَلِکَ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَأَبَوْا عَلَیْہِ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : انْہَدُوا إلَیْہِمْ۔
(٣٣٧٢٤) حضرت ابو البختری (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت سلمان (رض) فارسی اہل فارس کے مشرکین سے جنگ کرنے کے لیے نکلے تو آپ (رض) نے فرمایا : تم رک جاؤ یہاں تک کہ میں ان کو دعوت دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت دیتے ہوئے سنا ہے۔ آپ (رض) ان کے پاس آئے اور فرمایا : بلاشبہ میں تم ہی میں سے ایک آدمی ہوں اور تحقیق تم لوگوں نے اس قوم میں میرے رتبہ کو دیکھ لیا ہے۔ یقیناً ہم تمہیں اسلام کی طرف بلاتے ہیں اگر تم نے اسلام قبول کرلیا تو تمہارے لیے بھی وہی حقوق ہوں گے جو ہمیں حاصل ہیں اور تم پر وہی کچھ لازم ہوگا جو ہم پر لازم ہے۔ اور اگر تم اسلام قبول کرنے سے انکار کرتے ہو تو پھر تم ذلیل اور سرنگوں ہو کر جزیہ ادا کرو۔ اور اگر تم نے جزیہ ادا کرنے سے بھی انکار کردیا تو ہم تم سے قتال کریں گے۔ ان لوگوں نے جواب دیا۔ بہرحال اسلام تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ اور جزیہ بھی ہم ادا نہیں کریں گے ۔ رہا قتال تو ہم یقیناً تمہارے ساتھ قتال و لڑائی کریں گے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (رض) نے اسی طرح تین دن تک انھیں دعوت دی۔ اور انھوں نے قبول کرنے سے انکار کیا۔ تو آپ (رض) نے لوگوں سے کہا : ان پر حملہ کردو۔