(۳۳۷۵۲) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو حَیَّانَ ، عَنْ شَیْخٍ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ کَاتِبِ عُبَیْدِ اللہِ صَدَاقَۃٌ وَمَعْرِفَۃٌ ، فَکَتَبْتُ إلَیْہِ أَنْ یَنْسَخَ لِی رِسَالَۃَ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَسْأَلُوا لِقَائَ الْعَدُوِّ ، وَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوفِ ، وَکَانَ یَنْتَظِرُ ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ نَہَدَ إلَی عَدُوِّہِ۔
(٣٣٧٥٢) حضرت ابو حیان (رض) فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے ایک شیخ نے فرمایا : کہ میرے اور حضرت عبید اللہ کے کاتب کے درمیان دوستی اور جان پہچان تھی۔ میں نے اس کی طرف خط لکھا کہ وہ مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کا وہ خط لکھ دے جس میں انھوں نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ تم دشمن سے ملاقات کا سوال مت کرو ۔ اور جب تمہاری دشمن سے ملاقات ہوجائے تو صبر کرو، اور جان لو کہ بیشک جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انتظار فرماتے تھے ۔ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن پر حملہ فرما دیتے ۔