(۳۳۷۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ الْعَبْدِیِّ ، عَنْ شَبْرِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْقَادِسِیَّۃِ قَامَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ فَارِسَ فَدَعَا إلی المبارزۃ فذکر من عظمہ فقام إلیہ رجل قصیر یقال لہ شبر بن علقمۃ قَالَ : فقال بہ الفارسی ہَکَذَا ، یَعْنِی احْتَمَلَہُ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِہِ الأَرْضَ فَصَرَعَہُ ، قَالَ : فَأَخَذَ شَبْرٌ خِنْجَرًا کَانَ مَعَ الْفَارِسِیِّ ، فَقَالَ بہ فِی بَطْنِہِ ہکذا ، یَعْنِی فَخَضخَضَہُ ، ثُمَّ انْقَلَبَ عَلَیْہِ فَقَتَلَہُ ، ثُمَّ جَائَ بِسَلَبِہِ إلَی سَعْدٍ فَقُوِّمَ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا فَنَفَّلَہُ إیَّاہُ۔
(٣٣٧٦٦) حضرت اسود بن قیس العبدی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت شبر بن علقمہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ جب جنگ قادسیہ کا دن تھا تو اہل فارس میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے مقابلہ کے لیے للکارا اور اپنی بڑائی بیان کی۔ تو ایک چھوٹا سا آدمی جس کو شبر بن علقمہ کہتے ہیں۔ وہ کھڑا ہوا۔ اس پر اس ایرانی نے کہا : یہ آدمی یعنی اس نے غصہ کا اظہار کیا پھر اس نے اس شخص کو زمین پر گرا یا اور پچھاڑ دیا۔ اتنے میں شبر نے خنجر پکڑا جو اس ایرانی کے پاس تھا۔ اور اس کے پیٹ میں اس کو گاڑ دیا اس طرح کر کے اس دوران حضرت شبر (رض) نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر دکھلایا۔ پھر آپ (رض) اس کے اوپر آگئے اور اس کو قتل کردیا ۔ پھر آپ اس سے چھینا ہوا مال لے کر حضرت سعد (رض) کے پاس آئے انھوں نے اس کی بارہ ہزار قیمت لگائی اور یہ مال آپ (رض) کو بطور زائد کے عطا کردیا۔