(۳۳۷۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی الْحُرَقَاتِ مِنْ جُہَیْنَۃَ ، قَالَ : فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ وَقَدْ نَُذروا بِنَا ، قَالَ : فَخَرَجْنَا فِی آثَارِہِمْ فَأَدْرَکْت رَجُلاً مِنْہُمْ فَجَعَلْتُ إذَا لَحِقْتہ قَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، قَالَ : فَظَنَنْت أنہ إنَّمَا یَقُولُہَا فَرَقًا ، قَالَ : فَحَمَلْت عَلَیْہِ فَقَتَلْتہ فَعَرَضَ فِی نَفْسِی مِنْ أَمْرِہِ ، فَذَکَرْت ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، ثُمَّ قَتَلْتَہُ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَمْ یَقُلْہَا مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ ، إنَّمَا قَالَہَا فَرَقًا مِنَ السِّلاَحِ ، قَالَ : فَقَالَ : قَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، ثُمَّ قَتَلْتَہُ فَہَلاَّ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہِ حَتَّی تَعْلَمَ أَنَّہُ إنَّمَا قَالَہَا فَرَقًا مِنَ السِّلاَحِ ، قَالَ أُسَامَۃُ : فَمَا زَالَ یُکَرِّرُہَا عَلَیَّ : قَالَ : لاَ إلَہ إِلاَّ اللَّہُ ، ثُمَّ قَتَلْتہ حَتَّی وَدِدْت أَنِّی لَمْ أَکُنْ أَسْلَمْت إِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔
(٣٣٧٧١) حضرت اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں قبیلہ جھینہ کی طرف بھیجا۔ پس ہم نے اس قوم کے پاس صبح کی ، اور وہ لوگ ہم سے چوکنا ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان لوگوں کا پیچھا کیا تو ان میں سے ایک آدمی کو میں نے پکڑ لیا جیسے ہی میں اس سے ملا اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا میں نے گمان کیا کہ اس نے یہ کلمہ خوف سے پڑھا ہے۔ پس میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کو قتل کردیا۔ پھر میرے دل میں اس کا خیال آیا تو میں نے یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کی ۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اس نے لا الہ الا اللہ پڑھا پھر بھی تم نے اس کو قتل کردیا ؟ ! میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا بلکہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا تھا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا۔ پھر تم نے اس کو قتل کردیا۔ تم نے اس کا دل کیوں نہیں پھاڑ ڈالا۔ یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا ہے ؟ ! حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل مجھے یہ کہتے رہے کہ اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا پھر بھی تم نے اس کو قتل کردیا ! یہاں تک کہ میری خواہش ہوئی کہ میں اسلام نہ لایا ہوتا مگر آج ہی کے دن !۔