hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 33781

.

ابن أبي شيبة

33781
Ibn Abi Shaybah
(۳۳۷۸۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : لَمَّا ارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ عَلَی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ أَرَادَ أَبُو بَکْرٍ أَنْ یُجَاہِدَہُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَتُقَاتِلُہُمْ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ شَہِدَ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ حَرُمَ مَالُہُ إِلاَّ بِحَقِّہِ وَحِسَابُہُ عَلَی اللہِ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : لأُقَاتِلَ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ ، وَاللہِ لأَقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا حَتَّی أَجْمَعَہُمَا قَالَ عُمَرُ : فَقَاتَلْنَا مَعَہُ ، فَکَانَ رُشْدًا ، فَلَمَّا ظَفِرَ بِمَنْ ظَفِرَ بِہِ مِنْہُمْ ، قَالَ : اخْتَارُوا مِنِّی خَصْلَتَیْنِ : إمَّا حَرْبًا مُجَلِّیَۃً وَإِمَّا الْخِطَّۃَ الْمُخْزِیَۃَ ، فَقَالُوا : ہَذِہِ الْحَرْبُ الْمُجَلِّیَۃُ قَدْ عَرَفْنَاہَا فَمَا الْحِطَّۃُ الْمُخْزِیَۃُ ؟ قَالَ : تَشْہَدُونَ عَلَی قَتْلاَنَا أَنَّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ وَعَلَی قَتَلاَکُمْ أَنَّہُمْ فِی النَّارِ فَفَعَلُوا۔
(٣٣٧٨٢) حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب مرتد ہوئے وہ لوگ جو حضرت ابوبکر (رض) صدیق کے زمانے میں مرتد ہوئے تھے تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا آپ (رض) ان لوگوں سے قتال کریں گے حالانکہ تحقیق آپ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یقیناً محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں تو اس کا مال حرام ہوگیا مگر اللہ رب العزت کے ذمہ اس کا حساب ہوگا ؟ ! حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : کیا میں قتال نہ کروں اس شخص سے جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرے ؟ اللہ کی قسم ! میں ضرور اس شخص سے قتال کروں گا جو ان دونوں کے درمیان فرق کرے گا۔ یہاں تک کہ میں ان دونوں کو جمع کر دوں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : پس ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا اس حال میں کہ وہ واقعی ہدایت پر تھے۔ پھر جب آپ (رض) ان میں سے جتنے بھی لوگوں پر فتح یاب ہوئے تو آپ (رض) نے فرمایا : تم لوگ میری طرف سے دو باتیں اختیار کرو لو۔ یا تو جلا وطن کرنے والی جنگ یا پھر رسوا کردینے والی زمین ۔ ان لوگوں نے کہا : کہ جلا وطن کردینے والی جنگ تو ہم سمجھ گئے۔ یہ رسوا کردینے والی زمین سے کیا مراد ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : کہ تم ہمارے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ یقیناً جنت میں ہیں اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ یقیناً جہنم میں ہیں پس ان لوگوں نے ایسا کیا۔