(۳۳۷۹) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ إذَا ہَبَطَ من السُّوقِ مَرَّ عَلَی الشِّفَائِ ابْنَۃِ عَبْدِ اللہِ ، فَمَرَّ عَلَیْہَا یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : أَیْنَ سُلَیْمَانُ ؟ ابْنُہَا ، قَالَتْ : نَائِمٌ ، قَالَ : وَمَا شَہِدَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَامَ بِالنَّاسِ اللَّیْلَۃَ ، ثُمَّ جَائَ فَضَرَبَ بِرَأْسِہِ ، فَقَالَ عُمَرُ : شُہُودُ صَلاَۃِ الصُّبْحِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ قِیَامِ لَیْلَۃٍ حَتَّی الصُّبْحِ۔
(٣٣٧٩) حضرت یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر جب بازار کی طرف جاتے آتے تو شفاء بنت عبداللہ کے پاس سے گذرتے۔ ایک دن رمضان میں ان کے پاس سے گذرے تو ان سے پوچھا کہ سلیمان (ان کے بیٹے) کہاں ہیں ؟ انھوں نے بتایا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا انھوں نے فجر کی نماز پڑھی ہے۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ نہیں، وہ ساری رات لوگوں کے ساتھ عبادت کرتے رہے، پھر آکر سو گئے۔ حضرت عمرنے فرمایا کہ صبح کی نماز کو جماعت سے پڑھنا میرے نزدیک پوری رات عبادت کرنے سے بہت رہے۔