(۳۳۸۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ ، قَالَ : کَتَبَ نَجْدَۃُ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَیَقُولُ فِی کِتَابِہِ : إِنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَی قَدْ قَتَلَ الْوَلِیدَ ، قَالَ : فَقَالَ یَزِیدُ : أَنَا کَتَبْت کِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِیَدِی إلَی نَجْدَۃَ : إنَّک کَتَبْت تَسْأَلُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَتَقُولُ فِی کِتَابِکَ : إنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَی قَدْ قَتَلَ الْوَلِیدَ ، وَلَوْ کُنْتَ تَعْلَمُ مِنَ الْوِلْدَانِ مَا عَلِمَ ذَلِکَ الْعَالِمُ مِنْ ذَلِکَ الْوَلِیدِ قَتَلْتَہُ ، وَلَکِنَّک لاَ تَعْلَمُ ، قَدْ نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِہِمْ فَاعْتَزَلَہُمْ۔ (ترمذی ۱۵۵۶۔ مسلم ۱۴۴۴)
(٣٣٨٠٠) حضرت یزید بن ھرمز (رض) فرماتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس (رض) کو خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے متعلق سوال کیا اور اس نے اپنے خط میں لکھا کہ بلاشبہ ایک جاننے والے نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی تھے۔ انھوں نے بچہ کو قتل کیا تھا ؟ ! یزید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے حضرت ابن عباس (رض) کا خط نجدہ کی طرف لکھا : کہ تو نے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے متعلق پوچھا اور اپنے خط میں تو نے کہا کہ بلاشبہ ایک جاننے والے نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی تھے تحقیق انھوں نے بچہ کو قتل کیا تھا ؟ ! اگر تم بھی بچوں کے بارے میں وہ بات جانتے ہوتے تو تم بھی اس کو قتل کردیتے۔ لیکن تم نہیں جانتے۔ تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ پس تم ان سے الگ تھلگ رہو۔