(۳۳۸۰۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِیعٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ بَلَغُوا فِی الْقَتْلِ ، حَتَّی قَتَلُوا الْوِلْدَانَ ؟ ! قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إنَّمَا ہُمْ أَوْلاَدُ الْمُشْرِکِینَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَوَلَیْسَ أَخْیَارُکُمْ إنَّمَا ہُمْ أَوْلاَدُ الْمُشْرِکِینَ ؟! إِنَّہُ لَیْسَ مَوْلُودٌ یُولَدُ ، إِلاَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ ، حَتَّی یَبْلُغَ فَیُعَبِّرَ عَنْ نَفْسِہِ ، أَوْ یُہَوِّدَہُ أَبَوَاہُ ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ۔ (احمد ۴۳۵۔ دارمی ۲۴۶۳)
(٣٣٨٠٣) حضرت اسود بن سریع (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہوا کہ انھوں نے قتل میں مبالغہ کیا یہاں تک کہ انھوں نے بچوں کو بھی قتل کردیا ؟ ! اس پر قوم میں سے ایک شخص بولا : وہ تو مشرکین کے بچے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے میں جو بہترین لوگ ہیں کیا وہ مشرکین کی اولاد میں سے نہیں ہیں ؟ ! بیشک کوئی بھی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر فطرت اسلام پر یہاں تک کہ جب وہ بالغ ہوتا ہے تو اظہار ما فی الضمیر کرتا ہے، یا اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔