(۳۳۸۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً فَطَلَبُوا رَجُلاً فَصَعِدَ شَجَرَۃً فَأَحْرَقُوہَا بِالنَّارِ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوہُ بِذَلِکَ ، فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : إنِّی لَمْ أُبْعَثْ لأُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللہِ ، إنَّمَا بُعِثْت بِضَرْبِ الرِّقَابِ وَشَدِّ الْوَثَاقِ۔
(٣٣٨١٧) حضرت قاسم بن عبد الرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر روانہ فرمایا : پس انھوں نے کسی آدمی کو تلاش کیا تو وہ درخت پر چڑھ گیا پس انھوں نے اس درخت کو آگ سے جلا ڈالا جب یہ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آئے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی خبر دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک مجھے اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ میں اللہ کے عذاب کے طریقے پر عذاب دوں۔ بیشک مجھے بھیجا گیا ہے گردنیں مارنے کے لیے اور مضبوطی سے باندھنے کے لیے۔