(۳۳۹۳۰) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ حَبِیبٍ بْن أَبِی یَحْیَی ؛ أَنَّ خَالِدَ بْنَ زَیْدٍ ،وَکَانَتْ عَیْنَہُ أُصِیبَتْ بِالسَّوسِ ، قَالَ : حاصَرْنَا مَدِینَتَہَا ، فَلَقِینَا جَہْدًا ، وَأَمِیرُ الْمُسْلِمِینَ أَبُو مُوسَی ، وَأَخَذَ الدِّہْقَانُ عَہْدَہُ وَعَہْدَ مَنْ مَعَہُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : اعْزِلْہُمْ ، فَجَعَلَ یَعْزِلُہُمْ ، وَجَعَلَ أَبُو مُوسَی یَقُولُ لأَصْحَابِہِ : إِنِّی أَرْجُو أَنْ یَخْدَعَہُ اللَّہُ عَنْ نَفْسِہِ ، فَعَزَلَہُمْ وَبَقِیَ عَدُوُّ اللہِ ، فَأَمَرَ بِہِ أَبُو مُوسَی ، فَفَادَی وَبَذَلَ مَالاً کَثِیرًا ، فَأَبَی وَضَرَبَ عُنُقَہُ۔
(٣٣٩٣٠) حضرت خالد بن زید (رض) سے مروی ہے جن کی آنکھ سوس کے علاقہ میں جہاد میں شھید ہوچکی تھی، فرماتے ہیں کہ ہم نے کفار کے علاقہ کا محاصرہ کیا، ہمیں بڑی مشقت پیش آئی، اس وقت ہمارے امیر حضرت ابو موسیٰ (رض) تھے، ایک دھقان نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی امان طلب کی اور چھٹکارا چاہا۔ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا، ان کو علیحدہ کرو، دھقان نے ان کو علیحدہ کرنا، شروع کردیا، حضرت ابو موسیٰ (رض) نے اپنے ساتھیوں سے کہا : مجھے لگتا ہے کہ یہ دھوکا دے گا۔ پھر جب اس دھقان نے اپنے خاندان والوں کو نکال لیا تو پھر جنگ کے لیے تیار ہوگیا۔ پھر جب وہ گرفتار کر کے لایا گیا تو اس نے بہت سے فدیے کی پیش کش کی۔ لیکن حضرت ابو موسیٰ (رض) نے اس کے قتل کا حکم دیا۔