(۳۳۹۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : اسْتَشَارَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الأُسَارَی یَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، قَوْمُک وَعَشِیرَتُک بَنُو عَمِّکَ ، فَخُذْ مِنْہُمَ الْفِدْیَۃَ ، وَقَالَ عُمَرُ : اُقْتُلْہُمْ ، فَنَزَلَتْ : {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ} قَالَ مُجَاہِدٌ : وَالإِثْخَانُ : ہُوَ الْقَتْلُ۔ (ابن جریر ۴۳)
(٣٣٩٣٦) حضرت مجاہد (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ طلب کیا، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آپ کی قوم اور آپ کے رشتہ دار ہیں، ان سے فدیہ لے کر آزاد کردیں، حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا، ان سب کو قتل کردیں، پھر اس کے بارے میں قرآن کریم کی آیت { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ } حضرت مجاہد فرماتے ہیں الا ثخان سے مراد قتل ہے۔