(۳۳۹۵۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُنَفِّلُ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ فَرِیضَۃُ الْخُمُسِ فِی الْمَغْنَمِ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ : {مَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ} تَرَکَ النَّفَلَ الَّذِی کَانَ یُنْفَلُ ، وَصَارَ فِی ذَلِکَ خُمُسُ الْخُمُسِ ، وَہُوَ سَہْمُ اللہِ ، وَسَہْمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (بیہقی ۳۱۴۔ ابن زنجویہ ۱۱۳۵)
(٣٣٩٥٩) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ غنیمت میں خمس کا حکم نازل ہونے سے قبل حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عطیہ (کچھ حصہ) الگ فرما لیتے پھر جب قرآن کریم کی آیت { مَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } نازل ہوئی زائد دیا جانے والا حصہ ختم کردیا گیا اور وہ خمس کے خمس میں ہوگیا۔ وہ اللہ اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ ہے۔