(۳۳۹۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا کَہْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ الْعُقَیْلِیِّ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَخْبِرْنِی عَنِ الْغَنِیمَۃِ ؟ فَقَالَ : لِلَّہِ سَہْمٌ ، وَلِہَؤُلاَئِ أَرْبَعَۃٌ ، قَالَ : قُلْتُ: فَہَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِہَا مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالَ : فَقَالَ : إِنْ رُمِیتَ بِسَہْمٍ فِی جَنْبِکَ فَلَسْت بِأَحَقَّ بِہِ مِنْ أَخِیک۔
(طحاوی ۳۰۱۔ بیہقی ۳۳۶)
(٣٣٩٧٧) حضرت عبداللہ بن شقیق العقیلی سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھڑا ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے غنیمت کے متعلق بتائیے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک حصہ اللہ کے لیے اور چار حصے ان کیلئے۔ میں نے عرض کیا : کیا کوئی شخص کسی سے زیادہ حقدار بھی ہے ؟ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تیرے پہلو میں تیر بھی مارا گیا پھر بھی تو اپنے بھائی سے زیادہ حقدار نہیں ہے۔