(۳۳۹۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : فِی الْمَغْنَمِ ؛ خُمُسٌ لِلَّہِ ،وَسَہْمٌ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِیِّ۔ وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ : یُؤْخَذُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْرُ رَأْسٍ فِی السَّبْیِ ، ثُمَّ یُخْرَجُ الْخُمُسُ ، ثُمَّ یُضْرَبُ لَہُ بِسَہْمِہِ مَعَ النَّاسِ غَابَ ، أَوْ شَہِدَ۔
وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ : کَانَ الصَّفِیُّ یَوْمَ خَیْبَرَ صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیِّ۔
وَقَالَ الشَّعْبِیُّ : کَانَ الصَّفِیُّ یَوْمَ خَیْبَرَ صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیِّ ، اسْتَنْکَحَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(ابوداؤد ۲۹۸۵۔ سعید بن منصور ۲۶۷۹)
(٣٣٩٨٢) حضرت محمد غنیمت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ غنیمت میں خمس اللہ کے لیے ہے، اور اللہ کے نبی کا حصہ ہے اور غنیمت میں اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے صفی ہے۔ (صفی وہ خاص حصہ جس کو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تقسیم غنیمت سے قبل ہی اپنے لیے الگ فرما لیں) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی کے لیے غنیمت میں بہترین قیدی کو الگ کیا گیا، پھر خمس نکالا گیا، پھر لوگوں کے حصہ میں سے خواہ وہ حاضر ہو یا غائب حصہ نکالا گیا۔
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت صفیہ بنت حیی کو بطور صفی الگ فرما لیا تھا۔
اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ خیبر والے دن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت صفیہ بنت حیی کو الگ فرما لیا تھا پھر ان سے نکاح فرما لیا۔