(۳۴۰۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن یَزِیدَ النَّخَعِیِّ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِی : یَا أَبَۃِ ، فِی إِمَارَۃِ الْحَجَّاجِ ، أَتَغْزُو ؟ قَالَ : یَا بُنَی ، لَقَدْ أَدْرَکْتُ أَقْوَامًا أَشَدَّ بُغْضًا مِنْکُمْ لِلْحَجَّاجِ ، وَکَانُوا لاَ یَدَعُونَ الْجِہَادَ عَلَی حَالٍ ، وَلَوْ کَانَ رَأْیُ النَّاسِ فِی الْجِہَادِ مِثْلَ رَأْیِکَ مَا أُدِّی الإِتَاوَۃَ ، یَعْنِی الْخَرَاجَ۔
(٣٤٠٦١) حضرت محمد بن عبدالرحمن بن یزید النخعی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ اے ابا ! حجاج کے دور امارت میں آپ جہاد میں شریک ہوئے تھے ؟ انھوں نے فرمایا اے بیٹے ! میں نے تو ان لوگوں کو بھی پایا ہے جو حجاج کے معاملہ میں تم سے زیادہ سخت تھے، لیکن انھوں نے پھر بھی جہاد کو نہ چھوڑا۔ اور اگر لوگوں کی بھی وہی رائے بن جاتی جو آپ کی رائے ہے تو پھر خراج نہ ادا کیا جاتا۔